5 اشعار

ارے صیاد اس بیداد پر بیداد کیا کیجے

Are sayyad is bedad par bedad kya keejiye

ارے صیاد اس بیداد پر بیداد کیا کیجے

«ارے صیاد اس بیداد پر بیداد کیا کیجے» انعام اللہ خاں یقین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 5 سیکنڈ ہے۔

ارے صیاد اس بیداد پر بیداد کیا کیجےشکار ناتواں مجھ سے کے تیں آزاد کیا کیجے

اٹھانے کا نہیں میں ہاتھ جوں گل اس گریباں سےاگر بو کی طرح جاوے گا جی برباد کیا کیجے

بہار آئی ہے اور ہم گلستاں میں جا نہیں سکتےخدا کے واسطے تو ہی کہہ اے صیاد کیا کیجے

ٹلا گر بے ستوں تو کیا ہوا خسرو نہیں ٹلتابڑا پتھر ہے چھاتی پر ترے فرہاد کیا کیجے

جفا پر دلبروں کے صبر کرنا ہی مناسب ہےیقیںؔ دعویٰ وفا کا کر کے اب فریاد کیا کیجے

— انعام اللہ خاں یقین