5 اشعار

بہار آئی ہے کیا کیا چاک جیب پیرہن کرتے

Bahar aayi hai kya kya chaak jaib pairahan karte

بہار آئی ہے کیا کیا چاک جیب پیرہن کرتے

«بہار آئی ہے کیا کیا چاک جیب پیرہن کرتے» انعام اللہ خاں یقین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 44 سیکنڈ ہے۔

بہار آئی ہے کیا کیا چاک جیب پیرہن کرتےجو ہم بھی چھوٹ جاتے اب تو کیا دیوانہ پن کرتے

تصور اس دہان تنگ کا رخصت نہیں دیتاجو ٹک دم مار سکتے ہم تو کچھ فکر سخن کرتے

نہیں جوں پنجۂ گل کچھ بھی ان ہاتھوں میں گیرائیوگرنہ یہ گریباں نذر خوبان چمن کرتے

مسافر ہو کے آئے ہیں جہاں میں تس پہ وحشت ہےقیامت تھی اگر ہم اس خرابہ میں وطن کرتے

کوئی فرہاد جیسے بے زباں کو قتل کرتا ہےیقیںؔ ہم واں اگر ہوتے تو اک دو بچن کرتے

— انعام اللہ خاں یقین