5 اشعار

کوئی میداں نہ جیتا عشق کا فرہاد کے آگے

Koyi maidan na jeeta ishq ka Farhad ke aage

کوئی میداں نہ جیتا عشق کا فرہاد کے آگے

«کوئی میداں نہ جیتا عشق کا فرہاد کے آگے» انعام اللہ خاں یقین کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دے لے ساقی ہم کو مے یہ ابر باراں پھر کہاںانعام اللہ یقین» میں 4 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 56 سیکنڈ ہے۔

کوئی میداں نہ جیتا عشق کا فرہاد کے آگےکسو نے دم نہ مارا تیشۂ فولاد کے آگے

گئے دوڑے نہ آخر حضرت یعقوب کنعاں سےزمیں ناپے پدر بھی حسن مادر زاد کے آگے

اکیلا کیونکہ لگتا بستیوں میں دل بچارے کانہ ہوتا نقش شیریں کا اگر فرہاد کے آگے

اگر دھڑکا ہو جنت میں تو بد تر ہے جہنم سےہمیں گل خار سا لگتا ہے اس صیاد کے آگے

یقیںؔ اس قد کے آگے اس طرح سے سرو رسوا ہےدرختان بیابانی ہیں جوں شمشاد کے آگے

— انعام اللہ خاں یقین

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں