5 اشعار

کر سکے کیا عقل میرے غم کے جانے کا علاج

Kar sake kya aql mere gham ke jaane ka ilaaj

کر سکے کیا عقل میرے غم کے جانے کا علاج

«کر سکے کیا عقل میرے غم کے جانے کا علاج» انعام اللہ خاں یقین کا کلام ہے، جسے نایاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دے لے ساقی ہم کو مے یہ ابر باراں پھر کہاںانعام اللہ یقین» میں 4 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 38 سیکنڈ ہے۔

کر سکے کیا عقل میرے غم کے جانے کا علاجکام کب آتا ہے دیوانوں کو سیانے کا علاج

رنگ گل کی آگ پر دامن نہ مار اے باد صبحکیا کریں گی بلبلیں پھر آشیانے کا علاج

حق کو کب پہنچے نہ باندھے جب تک ان زلفوں سے دلکیوں کہ ہو زنجیر بن ایسے دیوانے کا علاج

گر طہارت چاہتا ہے تو خدا کے واسطےکاٹ سر لوہو سے اپنے کر نہانے کا علاج

شیشۂ دل کے تئیں اپنے سنبھالے رکھ یقیںؔپھر کرے گا کون اس کے ٹوٹ جانے کا علاج

— انعام اللہ خاں یقین

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں