کر سکے کیا عقل میرے غم کے جانے کا علاج
کلام: انعام اللہ خاں یقین
کر سکے کیا عقل میرے غم کے جانے کا علاجکام کب آتا ہے دیوانوں کو سیانے کا علاج
رنگ گل کی آگ پر دامن نہ مار اے باد صبحکیا کریں گی بلبلیں پھر آشیانے کا علاج
دے لے ساقی ہم کو مے یہ ابر باراں پھر کہاںانعام اللہ یقین
مہمان شاعر: انعام اللہ خاں یقین
کر سکے کیا عقل میرے غم کے جانے کا علاجکام کب آتا ہے دیوانوں کو سیانے کا علاج
رنگ گل کی آگ پر دامن نہ مار اے باد صبحکیا کریں گی بلبلیں پھر آشیانے کا علاج
شب ہجراں کی وحشت کو تو اے بیداد کیا جانےجو دن پڑتے ہیں راتوں کو مجھے تیری بلا جانے
جدا ہم سے ہوا تھا ایک دن جو اپنے یاروں میںخبر پھر کچھ نہ پائی کیا ہوا واقع خدا جانے