5 اشعار

خواب میں کس طرح دیکھوں تجھ کو بے خوابی کے ساتھ

Khwab mein kis tarah dekhuñ tujh ko be-khwabi ke saath

خواب میں کس طرح دیکھوں تجھ کو بے خوابی کے ساتھ

«خواب میں کس طرح دیکھوں تجھ کو بے خوابی کے ساتھ» انعام اللہ خاں یقین کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دے لے ساقی ہم کو مے یہ ابر باراں پھر کہاںانعام اللہ یقین» میں 4 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔

خواب میں کس طرح دیکھوں تجھ کو بے خوابی کے ساتھجمع آسائش کہاں ہوتی ہے بیتابی کے ساتھ

کر دیا آنکھوں کے رونے نے مرے دل کو خنککب تلک گرمی کروں اس مردم آبی کے ساتھ

غنچہ رنگینی کو اپنی چاہئے تہ کر رکھےاس کو کیا نسبت ہے ان لب ہائے عنابی کے ساتھ

پونچھتے اس منہ کے ہو جاتا ہے سب رنگیں رومالگل کہاں ہوتا ہے ایسے رنگ و شادابی کے ساتھ

مفت نہیں لیتے وفا کو شہر خوباں میں یقیںؔکس قدر بے قدر ہے یہ جنس نایابی کے ساتھ

— انعام اللہ خاں یقین

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں