5 اشعار

ٹک اک انصاف کر اتنی بھی کرتا ہے جفا کوئی

Tik ik insaaf kar itnī bhī kartā hai jafā koī

ٹک اک انصاف کر اتنی بھی کرتا ہے جفا کوئی

«ٹک اک انصاف کر اتنی بھی کرتا ہے جفا کوئی» انعام اللہ خاں یقین کا کلام ہے، جسے ندیم بخاری نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دے لے ساقی ہم کو مے یہ ابر باراں پھر کہاںانعام اللہ یقین» میں 4 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 45 سیکنڈ ہے۔

ٹک اک انصاف کر اتنی بھی کرتا ہے جفا کوئیکرے گا بعد میرے کس توقع پر وفا کوئی

نظر آتا نہیں ثابت گریباں ایک غنچہ کاچمن پر یہ ستم کرتا ہے اے باد صبا کوئی

گل و لالہ سے شور انگیز تر ہے گی حنا تیرینہ ہو دیوانہ کیوں کر دیکھ تیرے دست و پا کوئی

عجب سج سے کیا ہے قتل مجھ کو اس کو مت ٹوکوطلب کرتا ہے ایسے قاتلوں سے خوں بہا کوئی

گزر جا وصل سے گر ہجر میں دیکھے رضا اس کیمحبت میں یقیںؔ لیتا ہے نام مدعا کوئی

— انعام اللہ خاں یقین

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں