5 اشعار

یہ سینہ عشق سے محروم درد و داغ نہیں

Yeh seena ishq se mehroom-e-dard-o-daagh nahin

یہ سینہ عشق سے محروم درد و داغ نہیں

«یہ سینہ عشق سے محروم درد و داغ نہیں» انعام اللہ خاں یقین کا کلام ہے، جسے کریسنٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دے لے ساقی ہم کو مے یہ ابر باراں پھر کہاںانعام اللہ یقین» میں 4 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 34 سیکنڈ ہے۔

یہ سینہ عشق سے محروم درد و داغ نہیںہزار شکر کہ یہ ملک بے چراغ نہیں

مت اختلاط کر اے نو بہار اب ہم سےچمن کے ہونے کا اس خاک کو دماغ نہیں

یہ بلبلوں کا صبا مشہد مقدس ہےقدم سنبھال کے رکھیو ترا یہ باغ نہیں

خدا کرے کہ یہ روشن رہے قیامت تکچراغ گور ہے مستوں کا یہ ایاغ نہیں

گلی میں یار کی دل بھول جا پڑا تھا یقیںؔپھر ان دنوں سے دوانے کا کچھ سراغ نہیں

— انعام اللہ خاں یقین

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں