5 اشعار

عجب صدا یہ نمائش میں کل سنائی دی

Ajab sada yeh numaaish mein kal sunayi di

عجب صدا یہ نمائش میں کل سنائی دیکسی نے سنگ سے تصویر کو رہائی دی

سنہرے حرف بھی مٹی کے بھاؤ بیچ دیےتجھے تو میں نے نئے ذہن کی کمائی دی

بچا سکی نہ مجھے بھیڑ چپ کے قاتل سےہزار شور مچایا بہت دہائی دی

وہ شخص مر کے بھی اپنی جگہ سے ہل نہ سکاکہ اک زمانے نے جنبش تو انتہائی دی

کبھی وہ ٹوٹ کے بکھرا کبھی وہ جمع ہواخدا نے اس کو عجب معجزہ نمائی دی

— اقبال ساجد