7 اشعار

اک ردائے سبز کی خواہش بہت مہنگی پڑی

Ek rada-e-sabz ki khwahish bahut mehangi paṛi

اک ردائے سبز کی خواہش بہت مہنگی پڑیوقت پڑنے پر ہمیں بارش بہت مہنگی پڑی

ہاتھ کیا تاپے کہ پوروں سے دھواں اٹھنے لگاسرد رت میں گرمئ آتش بہت مہنگی پڑی

موم کی سیڑھی پہ چڑھ کر چھو رہے تھے آفتابپھول سے چہروں کو یہ کوشش بہت مہنگی پڑی

خار قسمت کیا نکالے ہاتھ زخمی کر لیےناخن تدبیر کی کاوش بہت مہنگی پڑی

اس عمل نے تو کہیں کا بھی نہ رکھا دوستوخود کو چاہے جانے کی خواہش بہت مہنگی پڑی

ذکر قحط رنگ سے پہلے ہی تالے پڑ گئےہر لب تصویر کو جنبش بہت مہنگی پڑی

تند خو موجوں نے ساجدؔ چاند ساحل کھا لیےبحر شب میں امن کی کوشش بہت مہنگی پڑی

— اقبال ساجد