7 اشعار

گو دہر کے نقشے میں ہیں باہر بھی نہیں ہم

Go dahar ke naqshe mein hain bahar bhi nahin hum

گو دہر کے نقشے میں ہیں باہر بھی نہیں ہمرکھتے ہیں نشاں اور اجاگر بھی نہیں ہم

کیوں ہم سے پھر امید صدف باندھ رہے ہوجب تم کو پتا ہے کہ سمندر بھی نہیں ہم

خوشبو کی طرح پھول کے پنجرے میں نہیں بندآزاد فضاؤں کا مقدر بھی نہیں ہم

احساس ہے پھر خانہ بدوشی کا ہمیں کیوںرہنے کو ٹھکانہ بھی ہے بے گھر بھی نہیں ہم

کیسے ہو خد و خال سے پہچان ہماریمعنی کی طرح لفظ کے اندر بھی نہیں ہم

پرواز سبب کیسے ہو بچوں کی خوشی کاتتلی کی طرح مصحف گل پر بھی نہیں ہم

اس کا یہ تقاضا ہے کہ احکام بجا لائیںجس حسن کا سرکار کے نوکر بھی نہیں ہم

— اقبال ساجد