8 اشعار

بے خبر دنیا کو رہنے دو خبر کرتے ہو کیوں

Be-khabar duniya ko rehne do khabar karte ho kyon

بے خبر دنیا کو رہنے دو خبر کرتے ہو کیوںدوستو میرے دکھوں کو مشتہر کرتے ہو کیوں

کوئی دروازہ نہ کھولے گا صدائے درد پربستیوں میں شور و غل شام و سحر کرتے ہو کیوں

مجھ سے غربت مول لے کر کون گھر لے جائے گاتم مجھے رسوا سر بازار زر کرتے ہو کیوں

آنکھ کے اندھوں کو کیوں دکھلاتے ہو پرواز حرفکاغذوں پہ اب تماشائے ہنر کرتے ہو کیوں

تذکرہ لکھتے ہو کیا میری شکست و ریخت کالفظ کی بستی میں معنی کو کھنڈر کرتے ہو کیوں

دوستو! بینائی بخشے گی تمہیں ان کی اڑانپنچھیوں کو چھوڑ دو بے بال و پر کرتے ہو کیوں

لفظ اگر بوتے تو پھر فصل معانی کاٹتےدوستو! اب شکوۂ اہل ہنر کرتے ہو کیوں

ظالموں کے ساتھ مل جاؤ رہوگے عیش میںعمر ساجدؔ کسمپرسی میں بسر کرتے ہو کیوں

— اقبال ساجد