8 اشعار

سائے کی طرح بڑھ نہ کبھی قد سے زیادہ

Saaye ki tarah badh na kabhi qad se zyada

سائے کی طرح بڑھ نہ کبھی قد سے زیادہتھک جائے گا بھاگے گا اگر حد سے زیادہ

ممکن ہے ترے ہاتھ سے مٹ جائیں لکیریںامید نہ رکھ گوہر مقصد سے زیادہ

لگ جائے نہ تجھ پر ہی ترے قتل کا الزامبدنام تو ہوتا ہے برا بد سے زیادہ

خواہش ہے بڑائی کی تو اندر سے بڑا بنکر ذہن کی بھی نشو و نما قد سے زیادہ

دیکھوں تو مرے جسم پہ شاخیں ہیں نہ پتےسوچوں تو گھنا چھاؤں میں برگد سے زیادہ

رہنے دو خلاؤں میں مری قبر نہ کھودوہے پیار مجھے خاک کی مسند سے زیادہ

آنکھیں تو لگی رہتی ہیں دروازے کی جانبملتی ہے خوشی اپنی ہی آمد سے زیادہ

کیا جانئے کیا بات ہے اک عمر سے ساجدؔویران ہے ٹوٹے ہوئے مرقد سے زیادہ

— اقبال ساجد