8 اشعار

ہر گھڑی کا ساتھ دکھ دیتا ہے جان من مجھے

Har ghadi ka saath dukh deta hai jaan-e-man mujhe

ہر گھڑی کا ساتھ دکھ دیتا ہے جان من مجھےہر کوئی کہنے لگا تنہائی کا دشمن مجھے

دن کو کرنیں رات کو جگنو پکڑنے کا ہے شوقجانے کس منزل میں لے جائے گا پاگل پن مجھے

سادہ کاغذ رکھ کے آیا ہوں نمائش گاہ میںدیکھ کر ہوتی تھی ہر تصویر کو الجھن مجھے

ناچتا تھا پاؤں میں لمحوں کے گھنگرو باندھ کردے گیا دھوکا سمٹ کر وقت کا آنگن مجھے

نیکیوں کے پھل نہیں لگتے بدی کے پیڑ پراس نے واپس کر دیا ہے پھر تہی دامن مجھے

دوستو سن لی خدا نے کل مری پہلی دعاشرم سے آخر جھکانی پڑ گئی گردن مجھے

کیا ملا تجھ کو بتا اندھے سے لاٹھی چھین کرکر دیا کیوں آس سے محروم جان من مجھے

سرد ہو سکتی نہیں ساجدؔ کبھی سینے کی آگدل جلانے کو ملا ہے یاد کا ایندھن مجھے

— اقبال ساجد