7 اشعار

دہر کے اندھے کنویں میں کس کے آوازہ لگا

Dahar ke andhe kunwen mein kis ke awaza laga

دہر کے اندھے کنویں میں کس کے آوازہ لگاکوئی پتھر پھینک کر پانی کا اندازہ لگا

ذہن میں سوچوں کا سورج برف کی صورت نہ رکھکہر کے دیوار و در پر دھوپ کا غازہ لگا

رات بھی اب جا رہی ہے اپنی منزل کی طرفکس کی دھن میں جاگتا ہے گھر کا دروازہ لگا

کانچ کے برتن میں جیسے سرخ کاغذ کا گلابوہ مجھے اتنا ہی اچھا اور تر و تازہ لگا

پیار کرنے بھی نہ پایا تھا کہ رسوائی ملیجرم سے پہلے ہی مجھ کو سنگ خمیازہ لگا

شہر کی سڑکوں پر اندھی رات کے پچھلے پہرمیرا ہی سایہ مجھے رنگوں کا شیرازہ لگا

جانے رہتا ہے کہاں اقبال ساجدؔ آج کلرات دن دیکھا ہے اس کے گھر کا دروازہ لگا

— اقبال ساجد