7 اشعار

وہ دوست تھا تو اسی کو عدو بھی ہونا تھا

Woh dost tha to usi ko adu bhi hona tha

وہ دوست تھا تو اسی کو عدو بھی ہونا تھالہو پہن کے مجھے سرخ رو بھی ہونا تھا

سنہری ہاتھ میں تازہ لہو کی فصل نہ دیکہ اپنے حق کے لیے جنگجو بھی ہونا تھا

بگولہ بن کے سمندر میں خاک اڑانا تھیکہ لہر لہر مجھے تند خو بھی ہونا تھا

مرے ہی حرف دکھاتے تھے میری شکل مجھےیہ اشتہار مرے روبرو بھی ہونا تھا

کشش تھی پھول سی اس میں تو لا محالہ مجھےاسیر رنگ گرفتار بو بھی ہونا تھا

سزا تو ملنا تھی مجھ کو برہنہ لفظوں کیزباں کے ساتھ لبوں کو رفو بھی ہونا تھا

سفر کا بوجھ اٹھانے سے پیشتر ساجدؔمزاج دان رہ جستجو بھی ہونا تھا

— اقبال ساجد