6 اشعار

ملا تو حادثہ کچھ ایسا دل خراش ہوا

Mila to hadsa kuch aisa dil-kharash hua

ملا تو حادثہ کچھ ایسا دل خراش ہواوہ ٹوٹ پھوٹ کے بکھرا میں پاش پاش ہوا

تمام عمر ہی اپنے خلاف سازش کیوہ احتیاط کی خود پر نہ راز فاش ہوا

ستم تو یہ ہے وہ فرہاد وقت ہے جس نےنہ جوئے شیر نکالی نہ بت تراش ہوا

یہی تو دکھ ہے برائی بھی قاعدے سے نہ کینہ میں شریف رہا اور نہ بد معاش ہوا

ہو ایک بار کا رونا تو روؤں بھی دل کویہ آئنہ تو کئی بار پاش پاش ہوا

بلا کا حبس تھا ساجدؔ ہوا کی بستی میںچلی جو سانس کی آری میں قاش قاش ہوا

— اقبال ساجد