7 اشعار

دنیا نے زر کے واسطے کیا کچھ نہیں کیا

Duniya ne zar ke waaste kya kuch nahin kiya

دنیا نے زر کے واسطے کیا کچھ نہیں کیااور ہم نے شاعری کے سوا کچھ نہیں کیا

غربت بھی اپنے پاس ہے اور بھوک ننگ بھیکیسے کہیں کہ اس نے عطا کچھ نہیں کیا

چپ چاپ گھر کے صحن میں فاقے بچھا دئیےروزی رساں سے ہم نے گلہ کچھ نہیں کیا

پچھلے برس بھی بوئی تھیں لفظوں کی کھیتیاںاب کے برس بھی اس کے سوا کچھ نہیں کیا

غربت کی تیز آگ پہ اکثر پکائی بھوکخوش حالیوں کے شہر میں کیا کچھ نہیں کیا

بستی میں خاک اڑائی نہ صحرا میں ہم گئےکچھ دن سے ہم نے خلق خدا کچھ نہیں کیا

مانگی نہیں کسی سے بھی ہمدردیوں کی بھیکساجدؔ کبھی خلاف انا کچھ نہیں کیا

— اقبال ساجد