8 اشعار

اس آئنے میں دیکھنا حیرت بھی آئے گی

Is aaine mein dekhna hairat bhi aayegi

اس آئنے میں دیکھنا حیرت بھی آئے گیاک روز مجھ پہ اس کی طبیعت بھی آئے گی

قدغن لگا نہ اشکوں پہ یادوں کے شہر میںہوگا اگر تماشا تو خلقت بھی آئے گی

میں آئنہ بنوں گا تو پتھر اٹھائے گااک دن کھلی سڑک پہ یہ نوبت بھی آئے گی

موسم اگر ہے سرد تو پھر آگ تاپ لےچمکے گی آنکھ خوں میں حرارت بھی آئے گی

کچھ دیر اور شاخ پہ رہنے دے صبر کرپکنے دے پھل کو کھانے میں لذت بھی آئے گی

آنکھیں ہیں تیرے پاس تو پھر سطح آب پرگہرائی سے ابھر کے عبارت بھی آئے گی

نکلیں چراغ ہاتھ میں لے کر گھروں سے لوگسورج کی رہ میں منزل ظلمت بھی آئے گی

یہ جانتا تو کاٹتا ساجدؔ نہ سائے کوتلوار پر لہو کی تمازت بھی آئے گی

— اقبال ساجد