5 اشعار

کٹتے ہی سنگ لفظ گرانی نکل پڑے

KaTte hi sang lafz girani nikal paDe

کٹتے ہی سنگ لفظ گرانی نکل پڑےشیشہ اٹھا کہ جوئے معانی نکل پڑے

پیاسو رہو نہ دشت میں بارش کے منتظرمارو زمیں پہ پاؤں کہ پانی نکل پڑے

مجھ کو ہے موج موج گرہ باندھنے کا شوقپھر شہر کی طرف نہ روانی نکل پڑے

ہوتے ہی شام جلنے لگا یاد کا الاؤآنسو سنانے دکھ کی کہانی نکل پڑے

ساجدؔ تو پھر سے خانۂ دل میں تلاش کرممکن ہے کوئی یاد پرانی نکل پڑے

— اقبال ساجد