4 اشعار

سرسبز دل کی کوئی بھی خواہش نہیں ہوئی

Sar-sabz dil ki koyi bhi khwahish nahin hui

سرسبز دل کی کوئی بھی خواہش نہیں ہوئیوہ ہے زمین دل جہاں بارش نہیں ہوئی

روئے ہوئے بھی ان کو کئی سال ہو گئےآنکھوں میں آنسوؤں کی نمائش نہیں ہوئی

دیوار و در ہیں پاس مگر ان کے باوجوداپنے ہی گھر میں اپنی رہائش نہیں ہوئی

باب سخن میں اب وہی مشہور ہو گئےوہ جن کے ذہن سے کوئی کاوش نہیں ہوئی

— اقبال ساجد