8 اشعار

پیاسے کے پاس رات سمندر پڑا ہوا

Piyaase ke paas raat samundar pada hua

پیاسے کے پاس رات سمندر پڑا ہواکروٹ بدل رہا تھا برابر پڑا ہوا

باہر سے دیکھیے تو بدن ہیں ہرے بھرےلیکن لہو کا کال ہے اندر پڑا ہوا

دیوار تو ہے راہ میں سالم کھڑی ہوئیسایہ ہے درمیان سے کٹ کر پڑا ہوا

اندر تھی جتنی آگ وہ ٹھنڈی نہ ہو سکیپانی تھا صرف گھاس کے اوپر پڑا ہوا

ہاتھوں پہ بہہ رہی ہے لکیروں کی آب جوقسمت کا کھیت پھر بھی ہے بنجر پڑا ہوا

یہ خود بھی آسمان کی وسعت میں قید ہےکیا دیکھتا ہے چاند کو چھت پر پڑا ہوا

جلتا ہے روز شام کو گھاٹی کے اس طرفدن کا چراغ جھیل کے اندر پڑا ہوا

مارا کسی نے سنگ تو ٹھوکر لگی مجھےدیکھا تو آسماں تھا زمیں پر پڑا ہوا

— اقبال ساجد