9 اشعار

گڑے مردوں نے اکثر زندہ لوگوں کی قیادت کی

Gaṛe murdon ne aksar zinda logon ki qiyadat ki

گڑے مردوں نے اکثر زندہ لوگوں کی قیادت کیمری راہوں میں بھی حائل ہیں دیواریں قدامت کی

نئی کرنیں پرانے آسماں میں کیوں جگہ پائیںوہ کافر ہے کہ جس نے چڑھتے سورج کی عبادت کی

پرانی سیڑھیوں پر میں نئے قدموں کو کیوں رکھوںگراؤں کس لئے چھت سر پہ بوسیدہ عمارت کی

ترا احساس بھی ہوگا کبھی میری طرح پتھرنکل جائے گی آئینے سے پرچھائیں نزاکت کی

وہ میرا بت تھا جس کو میں نے اپنے ہاتھ سے توڑاکہ برسوں کی یہ محنت ایک لمحے میں اکارت کی

اگر ہے نام کی خواہش تو دیواروں پہ چسپاں کربنا کر جھوٹ کے رنگوں سے تصویریں صداقت کی

ابھی سینوں میں لہراتے ہیں میری یاد کے پرچمابھی تک ثبت ہیں مہریں دلوں پر بادشاہت کی

ابھی سب حرف تازہ ہیں مکرتا کیوں ہے معنی سےسیاہی خشک بھی ہونے نہیں پائی عبارت کی

کوئی میٹھے پھلوں کی آس میں کیوں تلخ دن کاٹےکسے فرصت ہے ساجدؔ آج کل صبر و قناعت کی

— اقبال ساجد