5 اشعار

لگا دی کاغذی ملبوس پر مہر ثبات اپنی

Laga di kaghazi malboos par mohar-e-sabat apni

لگا دی کاغذی ملبوس پر مہر ثبات اپنیبشر کے نام کر دی ہے خدا نے کائنات اپنی

خلا کے آر بھی میں ہوں خلا کے پار بھی میں ہوںعبور اک پل میں کرتا ہوں حدو ممکنات اپنی

جیوں گا اپنی مرضی سے مروں گا اپنی مرضی سےمرے زیر تسلط ہے فنا اپنی حیات اپنی

لکھی ہے میں نے اپنے ہاتھ پر تحریر آئندہمری اپنی وراثت ہے قلم اپنا دوات اپنی

میں خود پر آزماؤں گا خود اپنا آخری داؤخبر ہے مجھ کو ساجدؔ جیت بن جائے گی مات اپنی

— اقبال ساجد