7 اشعار

موند کر آنکھیں تلاش بحر و بر کرنے لگے

Moond kar aankhen talash-e-bahr-o-bar karne lage

موند کر آنکھیں تلاش بحر و بر کرنے لگےلوگ اپنی ذات کے اندر سفر کرنے لگے

مانجھیوں کے گیت سن کر آ گیا دریا کو جوشساحلوں پہ رقص تیزی سے بھنور کرنے لگے

بڑھ گیا ہے اس قدر اب سرخ رو ہونے کا شوقلوگ اپنے خون سے جسموں کو تر کرنے لگے

باندھ دے شاخوں سے تو مٹی کے پھل کاغذ کے پھولیہ تقاضا راہ میں اجڑے شجر کرنے لگے

گاؤں میں کچے گھروں کی قیمتیں بڑھنے لگیںشہر سے نقل مکانی اہل زر کرنے لگے

جیسے ہر چہرے کی آنکھیں سر کے پیچھے آ لگیںسب کے سب الٹے ہی قدموں سے سفر کرنے لگے

اب پڑھے لکھے بھی ساجدؔ آ کے بیکاری سے تنگشب کو دیواروں پہ چسپاں پوسٹر کرنے لگے

— اقبال ساجد