9 اشعار

ہر کسی کو کب بھلا یوں مسترد کرتا ہوں میں

Har kisi ko kab bhala yun mustarad karta hoon main

ہر کسی کو کب بھلا یوں مسترد کرتا ہوں میںتو ہے خوش قسمت اگر تجھ سے حسد کرتا ہوں میں

بغض بھی سینے میں رکھتا ہوں امانت کی طرحنفرتیں کرنے پہ آ جاؤں تو حد کرتا ہوں میں

کوئی اپنے آپ کو منوانے والا بھی تو ہوماننے میں کب کسی کے رد و کد کرتا ہوں میں

کچھ شعوری سطح پر کچھ لا شعوری طور پرکار فکر و فن میں اب سب کی مدد کرتا ہوں میں

اس لیے مجھ سے خفا ہیں اہل گلشن آج کلرنگ جھٹلاتا ہوں خوشبو مسترد کرتا ہوں میں

میرے جذبوں سے بچاؤ نیک دل لوگو مجھےروز او شب ان بد معاشوں کی مدد کرتا ہوں میں

دوسروں کے واسطے لکھا ہوا لگتا ہے جھوٹاپنی سچائی کو اکثر آپ رد کرتا ہوں میں

رنگ پر آئی ہوئی ہے اب جنوں خیزی میریروز و شب توہین ارباب خرد کرتا ہوں میں

طوق گردن میں پہنتا ہوں لہو کی دھار کاخلق کو حیران ساجدؔ زد بہ زد کرتا ہوں میں

— اقبال ساجد