7 اشعار

رخ روشن کا روشن ایک پہلو بھی نہیں نکلا

Rukh-e-roshan ka roshan ek pehlu bhi nahin nikla

رخ روشن کا روشن ایک پہلو بھی نہیں نکلاجسے میں چاند سمجھا تھا وہ جگنو بھی نہیں نکلا

وہ تیرا دوست جو پھولوں کو پتھرانے کا عادی تھاکچھ اس سے شعبدہ بازی میں کم تو بھی نہیں نکلا

ابھی کس منہ سے میں دعویٰ کروں شاداب ہونے کاابھی ترشے ہوئے شانے پہ بازو بھی نہیں نکلا

گھروں سے کس لیے یہ بھیڑ سڑکوں پر نکل آئیابھی تو بانٹنے وہ شخص خوشبو بھی نہیں نکلا

شکاری آئے تھے دل میں شکار آرزو کرنےمگر اس دشت میں تو ایک آہو بھی نہیں نکلا

تری بھی حسن کاری کے ہزاروں لوگ ہیں قائلگلی کوچوں سے لیکن اس کا جادو بھی نہیں نکلا

بتا اس دور میں اقبال ساجدؔ کون نکلے گاصداقت کا علم لے کر اگر تو بھی نہیں نکلا

— اقبال ساجد