5 اشعار

اس سال شرافت کا لبادہ نہیں پہنا

Is saal sharafat ka libada nahin pehna

اس سال شرافت کا لبادہ نہیں پہناپہنا ہے مگر اتنا زیادہ نہیں پہنا

اس نے بھی کئی روز سے خواہش نہیں اوڑھیمیں نے بھی کئی دن سے ارادہ نہیں پہنا

دوڑے ہیں مگر صحن سے باہر نہیں دوڑےگھر ہی میں رہے پاؤں میں جادہ نہیں پہنا

آباد ہوئے جب سے یہاں تنگ نظر لوگاس شہر نے ماحول کشادہ نہیں پہنا

درویش نظر آتا تھا ہر حال میں لیکنساجدؔ نے لباس اتنا بھی سادہ نہیں پہنا

— اقبال ساجد