9 اشعار

وہ مسلسل چپ ہے تیرے سامنے تنہائی میں

Wo musalsal chup hai tere samne tanhai mein

وہ مسلسل چپ ہے تیرے سامنے تنہائی میںسوچتا کیا ہے اتر جا بات کی گہرائی میں

سرخ رو ہونے نہ پایا تھا کہ پیلا پڑ گیاچاند کا بھی ہاتھ تھا جذبات کی پسپائی میں

بے لباسی ہی نہ بن جائے کہیں تیرا لباسآئینے کے سامنے پاگل نہ ہو تنہائی میں

تو اگر پھل ہے تو خود ہی ٹوٹ کر دامن میں آمیں نہ پھینکوں گا کوئی پتھر تری انگنائی میں

رات بھر وہ اپنے بستر پر پڑا روتا رہادور اک آواز بنجر ہو گئی شہنائی میں

دائرے بڑھتے گئے پرکار کا منہ کھل گیاوہ بھی داخل ہو گیا اب سرحد رسوائی میں

حبس تو دل میں تھا لیکن آنکھ تپ کر رہ گئیرات سارا شہر ڈوبا درد کی پروائی میں

آنکھ تک بھی اب جھپکنے کی مجھے فرصت نہیںنقش ہے دیوار پر تصویر ہے بینائی میں

لوگ واپس ہو گئے ساجدؔ نمائش گاہ سےاور میں کھویا رہا اک محشر رعنائی میں

— اقبال ساجد