7 اشعار

مجھے نہیں ہے کوئی وہم اپنے بارے میں

Mujhe nahin hai koi wahm apne bare mein

مجھے نہیں ہے کوئی وہم اپنے بارے میںبھرو نہ حد سے زیادہ ہوا غبارے میں

تماشا ختم ہوا دھوپ کے مداری کاسنہری سانپ چھپے شام کے پٹارے میں

جسے میں دیکھ چکا اس کو لوگ کیوں دیکھیںنہ چھوڑی کوئی بھی باقی کشش نظارے میں

وہ بولتا تھا مگر لب نہیں ہلاتا تھااشارہ کرتا تھا جنبش نہ تھی اشارے میں

تمام لوگ گھروں کی چھتوں پہ آ جائیںبڑی کشش ہے نئے چاند کے نظارے میں

ملے مجھے بھی اگر کوئی شام فرصت کیمیں کیا ہوں کون ہوں سوچوں گا اپنے بارے میں

پرانی سمت مڑے گا نہ کوئی بھی ساجدؔیہ عہد نو نہ بہے گا قدیم دھارے میں

— اقبال ساجد