7 اشعار

ختم راتوں رات اس گل کی کہانی ہو گئی

Khatm raaton raat us gul ki kahani ho gayi

ختم راتوں رات اس گل کی کہانی ہو گئیرنگ بوسیدہ ہوئے خوشبو پرانی ہو گئی

جس سے روشن تھا مقدر وہ ستارہ کھو گیاظلمتوں کی نذر آخر زندگانی ہو گئی

کل اجالوں کے نگر میں حادثہ ایسا ہواچڑھتے سورج پر دیئے کی حکمرانی ہو گئی

رہ گئی تھی لعل بننے میں کمی اک آنچ کیآنکھ سے گر کر لہو کی بوند پانی ہو گئی

چلۂ جاں پر چڑھا کر آخری سانسوں کے تیرموت کی سرحد میں داخل زندگانی ہو گئی

خوف اب آتا نہیں ہے سیپیاں چنتے ہوئےدوستی اپنی سمندر سے پرانی ہو گئی

کس جگہ آیا ہے تو آنکھوں کے نیلم بھول کرغم کہاں اقبال ساجدؔ کی نشانی ہو گئی

— اقبال ساجد