10 اشعار

پھینک یوں پتھر کہ سطح آب بھی بوجھل نہ ہو

Phenk yun patthar ke sat'h-e-aab bhi bojhal na ho

پھینک یوں پتھر کہ سطح آب بھی بوجھل نہ ہونقش بھی بن جائے اور دریا میں بھی ہلچل نہ ہو

کھول یوں مٹھی کہ اک جگنو نہ نکلے ہاتھ سےآنکھ کو ایسے جھپک لمحہ کوئی اوجھل نہ ہو

ہے سفر درپیش تو پرچھائیں کی انگلی پکڑراہ میں تنہائی کے احساس سے پاگل نہ ہو

پہلی سیڑھی پہ قدم رکھ آخری سیڑھی پہ آنکھمنزلوں کی جستجو میں رائیگاں اک پل نہ ہو

ذہن خالی ہو گئے ہیں وقت کے احساس سےسامنے وو مسئلہ رکھ جس کا کوئی حل نہ ہو

سب کے ہی سینوں میں ہے پھیلا ہوا سانسوں کا حبسکوئی شہر ایسا نہیں جس کی فضا بوجھل نہ ہو

لوگ اکثر اپنے چہرے پر چڑھا لیتے ہیں خولتو جسے سونا سمجھتا ہے کہیں پیتل نہ ہو

جستجو اس پیڑ کی کیوں ہو کہ جو سایہ نہ دےہاتھ اس ڈالی پہ کیا پہنچے کہ جس پر پھل نہ ہو

روز و شب لگتا رہے سوچوں کا میلہ ذہن میںشور سے خالی کبھی احساس کا جنگل نہ ہو

گرم کر ساجدؔ لہو کو دھیمی دھیمی آنچ سےوقت سے پہلے ترے جذبات میں ہلچل نہ ہو

— اقبال ساجد