6 اشعار

خدا نے جس کو چاہا اس نے بچے کی طرح ضد کی

Khuda ne jis ko chaha us ne bache ki tarah zid ki

خدا نے جس کو چاہا اس نے بچے کی طرح ضد کیخدا بخشش کرے گا اس لیے اقبال ساجدؔ کی

گواہی دے گا اک دن خود مرا منصف مرے حق میںدھری رہ جائیں گی ساری دلیلیں مرے حاسد کی

وہی جو پہلے آیا تھا وہ سب کے بعد بھی آیااسی پیکر نے تو پہچان کروائی ہے موجد کی

جو میرے دل میں تھی اس نے وہی تحریر پہنچائیاب اس سے بڑھ کے کیا تعریف ہو سکتی ہے قاصد کی

جو اندر سے نہیں باہر سے خد و خال منوائےپر اصل آئنہ صورت گنوا دیتا ہے قاصد کی

حوالے سے جو منوائے وہ سچائی نہیں ہوتیقسم کھاتا نہیں ہوں اس لیے میں رب واحد کی

— اقبال ساجد