7 اشعار

خشک اس کی ذات کا ساتوں سمندر ہو گیا

Khushk us ki zaat ka saaton samundar ho gaya

خشک اس کی ذات کا ساتوں سمندر ہو گیادھوپ کچھ ایسی پڑی وہ شخص بنجر ہو گیا

آنگن آنگن زہر برسائے گی اس کی چاندنیوہ اگر مہتاب کی صورت اجاگر ہو گیا

میرے آدھے جسم کی اس کو لگے گی بد دعاکل خبر آ جائے گی وہ شخص پتھر ہو گیا

کس نے اپنے ہاتھ سے خود موت کا کتبہ لکھاکون اپنی قبر پر عبرت کا پتھر ہو گیا

قرب جب حد سے بڑھا دوری مقدر ہو گئیاس کا ملنا بھی نہ ملنے کے برابر ہو گیا

میں کہ باہر کی فضا میں قید تھا جس کے سببآج وہ خود جنس کے پنجرے کے اندر ہو گیا

مفت میں تقسیم کی ساجدؔ متاع شاعریجس نے اپنا قرب اپنایا وہ شاعر ہو گیا

— اقبال ساجد