10 اشعار

سنگ دل ہوں اس قدر آنکھیں بھگو سکتا نہیں

Sangdil hun is qadar aankhen bhigo sakta nahin

سنگ دل ہوں اس قدر آنکھیں بھگو سکتا نہیںمیں کہ پتھریلی زمیں میں پھول بو سکتا نہیں

لگ چکے ہیں دامنوں پر جتنے رسوائی کے داغان کو آنسو کیا سمندر تک بھی دھو سکتا نہیں

ایک دو دکھ ہوں تو پھر ان سے کروں جی بھر کے پیارسب کو سینے سے لگا لوں یہ تو ہو سکتا نہیں

تیری بربادی پہ اب آنسو بہاؤں کس لیےمیں تو خود اپنی تباہی پر بھی رو سکتا نہیں

جس نے سمجھا ہو ہمیشہ دوستی کو کاروباردوستو وہ تو کسی کا دوست ہو سکتا نہیں

خواہشوں کی نذر کر دوں کس لیے انمول اشککچے دھاگوں میں کوئی موتی پرو سکتا نہیں

میں ترے در کا بھکاری تو مرے در کا فقیرآدمی اس دور میں خوددار ہو سکتا نہیں

مجھ کو اتنا بھی نہیں ہے سرخ رو ہونے کا شوقبے سبب تازہ لہو کی فصل بو سکتا نہیں

یاد کے شعلوں پہ جلتا ہے اگر میرا بدناوڑھ کر پھولوں کی چادر تو بھی سو سکتا نہیں

ہاتھ جس سے کچھ نہ آئے اس کی خواہش کیوں کروںدودھ کی مانند میں پانی بلو سکتا نہیں

— اقبال ساجد