8 اشعار

سورج ہوں چمکنے کا بھی حق چاہئے مجھ کو

Suraj hoon chamakne ka bhi haq chahiye mujh ko

سورج ہوں چمکنے کا بھی حق چاہئے مجھ کومیں کہر میں لپٹا ہوں شفق چاہئے مجھ کو

ہو جائے کوئی چیز تو مجھ سے بھی عبارتلکھنے کے لیے سادہ ورق چاہئے مجھ کو

خنجر ہے تو لہرا کے مرے دل میں اتر جاہے آنکھ کی خواہش کہ شفق چاہئے مجھ کو

ہو وہم کی دستک کہ کسی پاؤں کی آہٹجینے کے لیے کچھ تو رمق چاہئے مجھ کو

ہر بار مری راہ میں حائل ہو نیا سنگہر بار کوئی تازہ سبق چاہئے مجھ کو

جو کچھ بھی ہو باقی وہ مرے ہاتھ پہ لکھ دےمضمون بہر طور ادق چاہئے مجھ کو

جو ذہن میں تصویر ہے کاغذ پر اتر آئےدنیا میں نمائش کا بھی حق چاہئے مجھ کو

ہر پھول کے سینے میں گل سنگ ہو ساجدؔہر سنگ میں اک رنگ قلق چاہئے مجھ کو

— اقبال ساجد