8 اشعار

وہ چاند ہے تو عکس بھی پانی میں آئے گا

Wo chand hai to aks bhi pani mein aayega

وہ چاند ہے تو عکس بھی پانی میں آئے گاکردار خود ابھر کے کہانی میں آئے گا

چڑھتے ہی دھوپ شہر کے کھل جائیں گے کواڑجسموں کا رہ گزار روانی میں آئے گا

آئینہ ہاتھ میں ہے تو سورج پہ عکس ڈالکچھ لطف بھی سراغ رسائی میں آئے گا

رخت سفر بھی ہوگا مرے ساتھ شہر میںصحرا بھی شوق نقل مکانی میں آئے گا

پھر آئے گا وہ مجھ سے بچھڑنے کے واسطےبچپن کا دور پھر سے جوانی میں آئے گا

کب تک لہو کے حبس سے گرمائے گا بدنکب تک ابال آگ سے پانی میں آئے گا

صورت تو بھول بیٹھا ہوں آواز یاد ہےاک عمر اور ذہن گرانی میں آئے گا

ساجدؔ تو اپنے نام کا کتبہ اٹھائے پھریہ لفظ کب لباس معانی میں آئے گا

— اقبال ساجد