16 اشعار

اگلے جنم موہے بٹیا ہی کیجو

Agle janam mohe bitiya hi kijo

اگلے جنم موہے بٹیا ہی کیجو

«اگلے جنم موہے بٹیا ہی کیجو» عشرت آفریں کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تیرا نام لکھتی ہیں انگلیاں خلاؤں میں عشرت آفریں» میں 30 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 33 سیکنڈ ہے۔

مری بٹیاتجھے بھی میں نے جنما تھا اسی دکھ سے

کہ جس دکھ سے ترے بھائی کو جنماتجھے بھی میں نے اپنے تن سے وابستہ رکھا

اتنی ہی مدت تککہ جب تک تیرے بھائی کو

مرے تن کے ہر اک دکھ سکھ میں تم دونوں کا حصہایک جیسا مادر فطرت نے رکھا تھا

مگر تو جس گھڑی دھرتی پہ آئیوراثت بانٹنے والوں نے اپنا فیصلہ لکھا

تجھے مجھ سے شکایت ہےکہ میں نے پیار کی تقسیم میں تفریق برتی ہے

کھلونے اور آنسو کا جو بٹوارا ہوا اکثرترے حصے میں آنسو آئے ہیں پیاری

تجھے یہ جان کر حیرت تو ہوگیمرے حصے کا اکثر تر نوالہ بھائیوں ہی کو ملا کرتا

مگر ماں سے کوئی کیسے گلہ کرتامری جاں رزق کی تقسیم میں

تفریق کا قانون تو صدیوں پرانا ہےوراثت بانٹنے والوں نے جو بھی فیصلہ لکھا

اسے ہم نے بجا سمجھا بجا لکھاہمارا المیہ یہ ہے

کہ اپنی راہ کی دیوار ہم خود ہیںیہ عورت ہے

کہ جو عورت کے حق میں اب بھی گونگی ہےیہ عورت ہے

کہ جو عورت کی امیدوں کی قاتل ہےتو کیا تاریخ خود کو یوں ہی دہراتی رہے گی

نہیں ایسا نہیں ہوگایہ تیری جرأت اظہار یہ بپھرا ہوا لہجہ

یقیں مجھ کو دلاتے ہیںتری بیٹی کو یہ شکوہ نہیں ہوگا

— عشرت آفریں

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں