11 اشعار

دل ہے یا میلے میں کھویا ہوا بچہ کوئی

Dil hai ya mele mein khoya hua bachcha koi

دل ہے یا میلے میں کھویا ہوا بچہ کوئی

«دل ہے یا میلے میں کھویا ہوا بچہ کوئی» عشرت آفریں کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تیرا نام لکھتی ہیں انگلیاں خلاؤں میں عشرت آفریں» میں 30 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 32 سیکنڈ ہے۔

دل ہے یا میلے میں کھویا ہوا بچہ کوئیجس کو بہلا نہیں سکتا ہے کھلونا کوئی

میں تو جلتے ہوئے زخموں کے تلے رہتی ہوںتو نے دیکھا ہے کبھی دھوپ کا صحرا کوئی

میں لہو ہوں تو کوئی اور بھی زخمی ہوگااپنی دہلیز پہ پھینکو تو نہ شیشہ کوئی

خواہشیں دل میں مچل کر یونہی سو جاتی ہیںجیسے انگنائی میں روتا ہوا بچہ کوئی

زائچے تو نے امیدوں کے بنائے تھے مگرمٹ گئے حرف گرا آنکھوں سے قطرہ کوئی

چاندنی جب بھی اترتی ہے مرے آنگن میںکھولتا ہے تری یادوں کا دریچہ کوئی

میرا گھر جس کے در و بام بھی مہمان سے تھےکاش اس اجڑے ہوئے گھر میں نہ آتا کوئی

دل کوئی پھول نہیں ہے کہ اگر توڑ دیاشاخ پر اس سے بھی کھل جائے گا اچھا کوئی

تم بھرے شہر میں افکار لیے پھرتے ہوسب تو مفلس ہیں خریدے گا یہاں کیا کوئی

رات تنہائی کے میلے میں مرے ساتھ تھا وہورنہ یوں گھر سے نکلتا ہے اکیلا کوئی

آفریںؔ درد کا احساس مٹا ہے ایسےجیسے بچپن میں بنایا تھا گھروندا کوئی

— عشرت آفریں

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں