اگلے جنم موہے بٹیا ہی کیجو
کلام: عشرت آفریں
مری بٹیاتجھے بھی میں نے جنما تھا اسی دکھ سے
کہ جس دکھ سے ترے بھائی کو جنماتجھے بھی میں نے اپنے تن سے وابستہ رکھا
تیرا نام لکھتی ہیں انگلیاں خلاؤں میں عشرت آفریں
مہمان شاعر: عشرت آفریں
مری بٹیاتجھے بھی میں نے جنما تھا اسی دکھ سے
کہ جس دکھ سے ترے بھائی کو جنماتجھے بھی میں نے اپنے تن سے وابستہ رکھا
سنا ہے تم منوں مٹی تلے آرام کرتی ہوتم اور آرام نا ممکن
سنا ہے موت سے بھی آخری دم تک لڑائی کیمجھے معلوم ہے تم کتنی ضدی تھیں
میرا پیاراس بستی کے نام
جہاں مرے بچپن کی ننھی منی یادیں سوتی ہیںجہاں مری معصوم تمناؤں نے گھروندے کھینچے تھے
میں داستانِ عشق ہوں تحریر کر مُجھےکاغذ پے رنگ بکھیر کے تصویر کر مُجھے
بھر دے میرے وجُود میں پڑتی ہوئی دراڑآکر نئے سِرے سے ہی تعمیر کر مُجھے