7 اشعار

سائیں میرے کھیتوں پر بھی رت ہریالی بھیجو ناں

Saiyan mere kheton par bhi rut hariyali bhejo naan

سائیں میرے کھیتوں پر بھی رت ہریالی بھیجو ناں

«سائیں میرے کھیتوں پر بھی رت ہریالی بھیجو ناں» عشرت آفریں کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تیرا نام لکھتی ہیں انگلیاں خلاؤں میں عشرت آفریں» میں 30 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 13 سیکنڈ ہے۔

سائیں میرے کھیتوں پر بھی رت ہریالی بھیجو ناںسکھی پرندوں کی چہکاریں گیتوں والی بھیجو ناں

ایک اک کر کے پنچھی اڑتے جائیں ٹھور ٹھکانوں سےبھوک اڑے کھلیانوں میں رت باجرے والی بھیجو ناں

چکنے مکنے آنگن مانگیں روز دعائیں پرندوں کیکبھی تو ان کی دعا سنو اور بھری کنڈالی بھیجو ناں

الگنیوں الگنیوں پھیلی رنگ برنگی انگیوں کولہریں لیتے جسم اور ہنستے مکھ کی لالی بھیجو ناں

سکھی رہیں وہ ہاتھ جو ڈلیا بنتے کبھی نہیں تھکتےسندیسہ اس ماں کو جس کی آتما خالی بھیجو ناں

بجرے دریا پار خزانے اپنے ڈھو لے جاتے ہیںسر اور تن کی جدا جدا اب کے رکھوالی بھیجو ناں

سائیں رات کی رات یہ بستی مقتل کیوں بن جاتی ہےاب جس رات بھی خنجر نکلیں آندھی کالی بھیجو ناں

— عشرت آفریں

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں