7 اشعار

میں اپنے عذاب لکھ رہی تھی

Main apne azaab likh rahi thi

میں اپنے عذاب لکھ رہی تھی

«میں اپنے عذاب لکھ رہی تھی» عشرت آفریں کا کلام ہے، جسے راجا اکرام قمر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تیرا نام لکھتی ہیں انگلیاں خلاؤں میں عشرت آفریں» میں 30 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 38 سیکنڈ ہے۔

میں اپنے عذاب لکھ رہی تھیزخموں کا حساب لکھ رہی تھی

پھولوں کی زباں کی شاعرہ تھیکانٹوں سے گلاب لکھ رہی تھی

اس پیڑ کے کھوکھلے تنے پراک عمر کے خواب لکھ رہی تھی

آنکھوں سے سوال پڑھ رہی تھیپلکوں سے جواب لکھ رہی تھی

ہر بوند شکستہ بام و در پربارش کا عتاب لکھ رہی تھی

اک نسل کے خواب کے لہو سےاک نسل کے خواب لکھ رہی تھی

پھولوں میں ڈھلی ہوئی یہ لڑکیپتھر پہ کتاب لکھ رہی تھی

— عشرت آفریں

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں