دل آشفتہ پہ الزام کئی یاد آئے
دل آشفتہ پہ الزام کئی یاد آئےجب ترا ذکر چھڑا نام کئی یاد آئے
تجھ سے چھٹ کر بھی گزرنی تھی سو گزری لیکنلمحہ لمحہ سحر و شام کئی یاد آئے
تیرے خیال کے دیوارودر بناتے ہیں جمیل الدین عالی
مہمان شاعر: جمیل الدین عالی
دل آشفتہ پہ الزام کئی یاد آئےجب ترا ذکر چھڑا نام کئی یاد آئے
تجھ سے چھٹ کر بھی گزرنی تھی سو گزری لیکنلمحہ لمحہ سحر و شام کئی یاد آئے
عمر بھر کا یاد ہے بس ایک افسانہ مجھےمیں نے پہچانا جسے اس نے نہ پہچانا مجھے
انجمن کی انجمن مجھ سے مخاطب ہو گئیآپ نے دیکھا تھا شاید بے نیازانہ مجھے
خدا کہوں گا تمھیں، ناخدا کہوں گا تمھیںپکارنا ہی پڑے گا تو کیا کہوں گا تمھیں
میری پسند میرے نام پر نہ حرف آئےبہت حسیں بہت با وفا کہوں گا تمھیں
کوئی بہار کی خاطر کوئی خزاں کے لیےبس ایک میں ہی رہا صرف گلستاں کے لیے
الٰہی مجھ سے نظر چھین لے کہ اہل نظرتمام عمر تڑپتے ہیں رازداں کے لیے
یہ عشق کی گلیاں جن میں ہم کس کس عالم میں آئے گئےکہتی ہیں کہ حضرت اب کیسے تم آج یہاں کیوں پائے گئے
اک شرط ہے یاں خوشبوئے وفا یاد آئے تو کرنا یاد ذراجب تم پہ بھروسا تھا گل کا کیا مہکے کیا مہکائے گئے