مکیں ہوں اور حدود مکاں نہیں معلوم
کلام: جمیل الدین عالی
مکیں ہوں اور حدود مکاں نہیں معلومسنانے بیٹھ گیا داستاں نہیں معلوم
دل حزیں کو کرم کی امید کرنے دےابھی اسے تری مجبوریاں نہیں معلوم
تیرے خیال کے دیوارودر بناتے ہیں جمیل الدین عالی
مہمان شاعر: جمیل الدین عالی
مکیں ہوں اور حدود مکاں نہیں معلومسنانے بیٹھ گیا داستاں نہیں معلوم
دل حزیں کو کرم کی امید کرنے دےابھی اسے تری مجبوریاں نہیں معلوم
ذہن پر چھا گئی موت کی بے حسی نیند آنے لگیڈھونڈھتا ہوں اندھیروں میں آسودگی نیند آنے لگی
بھاگتے بھاگتے موت کے سائے سے خود ہی دھندلا گئےسوچتے سوچتے زندگی زندگی نیند آنے لگی