7 اشعار

وہ لوگ ہی ہر دور میں محبوب رہے ہیں

Woh log hi har daur mein mehboob rahe hain

وہ لوگ ہی ہر دور میں محبوب رہے ہیں

«وہ لوگ ہی ہر دور میں محبوب رہے ہیں» جان نثار اختر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔

وہ لوگ ہی ہر دور میں محبوب رہے ہیںجو عشق میں طالب نہیں مطلوب رہے ہیں

طوفان کی آواز تو آتی نہیں لیکنلگتا ہے سفینے سے کہیں ڈوب رہے ہیں

ان کو نہ پکارو غم دوراں کے لقب سےجو درد کسی نام سے منسوب رہے ہیں

ہم بھی تری صورت کے پرستار ہیں لیکنکچھ اور بھی چہرے ہمیں مرغوب رہے ہیں

الفاظ میں اظہار محبت کے طریقےخود عشق کی نظروں میں بھی معیوب رہے ہیں

اس عہد بصیرت میں بھی نقاد ہمارےہر ایک بڑے نام سے مرعوب رہے ہیں

اتنا بھی نہ گھبراؤ نئی طرز ادا سےہر دور میں بدلے ہوئے اسلوب رہے ہیں

— جان نثار اختر