7 اشعار

زمیں ہوگی کسی قاتل کا داماں ہم نہ کہتے تھے

Zameen hogi kisi qatil ka daaman hum na kehte the

زمیں ہوگی کسی قاتل کا داماں ہم نہ کہتے تھے

«زمیں ہوگی کسی قاتل کا داماں ہم نہ کہتے تھے» جان نثار اختر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 1 سیکنڈ ہے۔

زمیں ہوگی کسی قاتل کا داماں ہم نہ کہتے تھےاکارت جائے گا خون شہیداں ہم نہ کہتے تھے

علاج چاک پیراہن ہوا تو اس طرح ہوگاسیا جائے گا کانٹوں سے گریباں ہم نہ کہتے تھے

ترانے کچھ دئیے لفظوں میں خود کو قید کر لیں گےعجب انداز سے پھیلے گا زنداں ہم نہ کہتے تھے

کوئی اتنا نہ ہوگا لاش بھی لے جا کے دفنا دےانہیں سڑکوں پہ مر جائے گا انساں ہم نہ کہتے تھے

نظر لپٹی ہے شعلوں میں لہو تپتا ہے آنکھوں میںاٹھا ہی چاہتا ہے کوئی طوفاں ہم نہ کہتے تھے

چھلکتے جام میں بھیگی ہوئی آنکھیں اتر آئیںستائے گی کسی دن یاد یاراں ہم نہ کہتے تھے

نئی تہذیب کیسے لکھنؤ کو راس آئے گیاجڑ جائے گا یہ شہر غزالاں ہم نہ کہتے تھے

— جان نثار اختر