10 اشعار

زلفیں سینہ ناف کمر

Zulfein seena naaf kamar

زلفیں سینہ ناف کمر

«زلفیں سینہ ناف کمر» جان نثار اختر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 5 سیکنڈ ہے۔

زلفیں سینہ ناف کمرایک ندی میں کتنے بھنور

صدیوں صدیوں میرا سفرمنزل منزل راہ گزر

کتنا مشکل کتنا کٹھنجینے سے جینے کا ہنر

گاؤں میں آ کر شہر بسےگاؤں بچارے جائیں کدھر

پھونکنے والے سوچا بھیپھیلے گی یہ آگ کدھر

لاکھ طرح سے نام ترابیٹھا لکھوں کاغذ پر

چھوٹے چھوٹے ذہن کے لوگہم سے ان کی بات نہ کر

پیٹ پہ پتھر باندھ نہ لےہاتھ میں سجتے ہیں پتھر

رات کے پیچھے رات چلےخواب ہوا ہر خواب سحر

شب بھر تو آوارہ پھرےلوٹ چلیں اب اپنے گھر

— جان نثار اختر