7 اشعار

وہ ہم سے آج بھی دامن کشاں چلے ہے میاں

Wo hum se aaj bhi daaman kashaan chale hai miyan

وہ ہم سے آج بھی دامن کشاں چلے ہے میاں

«وہ ہم سے آج بھی دامن کشاں چلے ہے میاں» جان نثار اختر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔

وہ ہم سے آج بھی دامن کشاں چلے ہے میاںکسی پہ زور ہمارا کہاں چلے ہے میاں

جہاں بھی تھک کے کوئی کارواں ٹھہرتا ہےوہیں سے ایک نیا کارواں چلے ہے میاں

جو ایک سمت گماں ہے تو ایک سمت یقیںیہ زندگی تو یوں ہی درمیاں چلے ہے میاں

بدلتے رہتے ہیں بس نام اور تو کیا ہےہزاروں سال سے اک داستاں چلے ہے میاں

ہر اک قدم ہے نئی آزمائشوں کا ہجومتمام عمر کوئی امتحاں چلے ہے میاں

وہیں پہ گھومتے رہنا تو کوئی بات نہیںزمیں چلے ہے تو آگے کہاں چلے ہے میاں

وہ ایک لمحۂ حیرت کہ لفظ ساتھ نہ دیںنہیں چلے ہے نہ ایسے میں ہاں چلے ہے میاں

— جان نثار اختر