13 اشعار

آپ اپنا غبار تھے ہم تو

Aap apna ghubar the hum to

آپ اپنا غبار تھے ہم تو

«آپ اپنا غبار تھے ہم تو» جون ایلیا کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 34 سیکنڈ ہے۔

آپ اپنا غبار تھے ہم تویاد تھے یادگار تھے ہم تو

پردگی ہم سے کیوں رکھا پردہتیرے ہی پردہ دار تھے ہم تو

وقت کی دھوپ میں تمہارے لیےشجر سایہ دار تھے ہم تو

اڑے جاتے ہیں دھول کے مانندآندھیوں پر سوار تھے ہم تو

ہم نے کیوں خود پہ اعتبار کیاسخت بے اعتبار تھے ہم تو

شرم ہے اپنی بار باری کیبے سبب بار بار تھے ہم تو

کیوں ہمیں کر دیا گیا مجبورخود ہی بے اختیار تھے ہم تو

تم نے کیسے بھلا دیا ہم کوتم سے ہی مستعار تھے ہم تو

خوش نہ آیا ہمیں جیے جانالمحے لمحے پہ بار تھے ہم تو

سہہ بھی لیتے ہمارے طعنوں کوجان من جاں نثار تھے ہم تو

خود کو دوران حال میں اپنےبے طرح ناگوار تھے ہم تو

تم نے ہم کو بھی کر دیا بربادنادر روزگار تھے ہم تو

ہم کو یاروں نے یاد بھی نہ رکھاجونؔ یاروں کے یار تھے ہم تو

— جون ایلیا