7 اشعار

اب وہ گھر اک ویرانہ تھا بس ویرانہ زندہ تھا

Ab woh ghar ek veerana tha bas veerana zinda tha

اب وہ گھر اک ویرانہ تھا بس ویرانہ زندہ تھا

«اب وہ گھر اک ویرانہ تھا بس ویرانہ زندہ تھا» جون ایلیا کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 1 سیکنڈ ہے۔

اب وہ گھر اک ویرانہ تھا بس ویرانہ زندہ تھاسب آنکھیں دم توڑ چکی تھیں اور میں تنہا زندہ تھا

ساری گلی سنسان پڑی تھی باد فنا کے پہرے میںہجر کے دالان اور آنگن میں بس اک سایہ زندہ تھا

وہ جو کبوتر اس موکھے میں رہتے تھے کس دیس اڑےایک کا نام نوازندہ تھا اور اک کا بازندہ تھا

وہ دوپہر اپنی رخصت کی ایسا ویسا دھوکا تھیاپنے اندر اپنی لاش اٹھائے میں جھوٹا زندہ تھا

تھیں وہ گھر راتیں بھی کہانی وعدے اور پھر دن گنناآنا تھا جانے والے کو جانے والا زندہ تھا

دستک دینے والے بھی تھے دستک سننے والے بھیتھا آباد محلہ سارا ہر دروازہ زندہ تھا

پیلے پتوں کو سہ پہر کی وحشت پرسا دیتی تھیآنگن میں اک اوندھے گھڑے پر بس اک کوا زندہ تھا

— جون ایلیا